hashmijobsagency.com

صحت کا عالمی دن

تحریر: حافظ احمد ہاشمی

صحت زندگی ہے اور غفلت موت ہے۔ چنانچہ انسان کے اولین منصوبے میں صحت اور زندگی کا منشور ہونا چاہیے۔ صحت کے بغیر ہمارے تمام ارادے، خیالات ، منصوبے اور معاشی پالیسیاں بیکار ہیں۔ اگر اس بات کا حقیقت پسندانہ تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ عصر حاضر میں انسان نے جس تیزی سے صحت کے معیار کو کھو دیا ہے۔ یقیناً اس بات کا منہ بولتا ثبوت مختلف بیماریاں اور شرح اموات ہیں۔ ان بنیادی اسباب میں آگاہی کی کمی، غیر متوازن غذا ، خوراک میں ملاوٹ اور ورزش نہ کرنا جیسے عوامل شامل ہیں ۔ بلاشبہ صحت کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمگیر ہے۔ جس کے حل کیلئے مؤثر حکمت عملی اور شعور و آگاہی کی ضرورت ہے۔ چونکہ کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک ترقی اور زندگی کو خوشحال نہیں بنا سکتا جب تک کہ وہ سسٹم میں داخل نہ ہو۔

اگر ہماری معاشی پالیسیاں انسان دوستی پر مبنی ہوں تو حالات اور مشکلات پر قابو پانے کیلئے زیادہ وقت نہیں لگتا بلکہ لوگ بہت کم وقت میں صحت، زندگی اور خوشحالی کے راستے پر گامزن ہو سکتے ہیں۔ اس سفر کو کامیاب بنانے کے لیے ایک فرد سے قوم تک سب کو فرائض اور عزائم سے واقف ہونا چاہیے تاکہ مشکلات اور رکاوٹوں کو عبور کر کے مثالی زندگی کا آغاز کیا جائے۔

اگر اس بات کا دلجمعی سے جائزہ لیا جائے تو دنیا بھر میں آج بھی ملین افراد ایسے ہیں جن کی صحت کی خدمات تک رسائی بالکل بھی نہیں ۔ وہ بیچارے غربت، مہنگائی اور بے روزگاری کا شکار ہیں۔ انہیں نہ اچھی خوراک، نہ اچھی رہائش اور نہ ہی اچھی تعلیم میسر ہے۔

لہذا مذکورہ مسائل اور گھمبیر صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لئے گورنمنٹ این جی اوز اور پرائیویٹ سیکٹر کو جامع ، مؤثر اور دیرپا معاشی منصوبے تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ تاکہ لوگوں کی صحت اور زندگی کا معیار بدل جائے۔

آئیں ۔۔! اس سے قبل کہ بیماریاں ہمیں جکڑ لیں ، جلد از جلد اپنے ماحول ،خوراک، طرز زندگی اور معاشی پالیسیوں میں تبدیلی لائیں۔ اس سے قبل کہ بہت دیر ہو جائے اپنی صحت کا جائزہ لیں اور حفظان صحت کے اصولوں کو مد نظر رکھ کر صحت اور زندگی کو ترجیح دیں کیونکہ ہمارا کل ہمارے بچے اور نسلیں ہیں۔ اگر انہیں وراثت میں اچھی صحت اور زندگی کا تحفہ دیں گے تو آنے والی نسلیں صحت اور زندگی کے معیار کو برقرار رکھ سکیں گی۔
اچھی صحت کو یقینی بنانے کیلئے کم کھائیں مگر معیاری اور متوازن خوراک کھائیں۔ اعتدال سے زندگی گزاریں اور خوش مزاج رہیں۔

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے عالمی ادارہ صحت کے تعاون سے 1950 سے ہر سال دنیا بھر میں 7 اپریل کو صحت کا عالمی دن منایا جاتا ہے جس کا مقصد دنیا بھر میں صحت و امراض سے بچاؤ کے لیے شعور و آگاہی اجاگر کرنا ہے

واضح رہے کہ صحت دنیا کا آٹھواں بڑا ایشو ہے جس پر کنٹرول اور قابو پانے کیلئے دنیا بھر کے سب ممالک کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

یاد رہے ہر سال تقریبا 3 ملین افراد قابل علاج بیماریوں کی وجہ سے قبل از وقت فوت ہوجاتے ہیں کیونکہ ان کی صحت کی خدمات تک رسائی نہیں ہو پاتی۔
صحت نعمت خداوندی ہے۔ زندگی کے ہر موڑ پر اس کی قدر کریں۔ اسے محفوظ اور بامقصد بنائیں کیونکہ صحت اور زندگی ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں۔

کیونکہ بیماری نہ صرف انسان کا جینا محال بناتی ہے بلکہ اس کی معاشی دشمن بھی ہے۔ مثلا اگر آپ بیمار ہیں تو سکول نہیں جاسکتے، کام کاج نہیں کر سکتے، کنبہ کی کفالت نہیں کر سکتے، بلکہ دوسروں کو آپ کی صحت کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ انسان غربت اور بے روزگاری کا شکار ہو جاتا ہے۔ لہذا پرہیز علاج سے بہتر ہے کے تحت ہمیں یہ جان لینا چاہیے کہ قدرت کی طرف سے بیماری کا تصور بہت کم ہے۔ دراصل باقی معاملات میں ہمارا اپنا قصور اور غلطیاں ہوتی ہیں جو ہمیں تباہی کی طرف لے جاتی ہیں۔ خاص طور پر ملاوٹ ، ذخیرہ اندوزی، کھادوں کا بکثرت استعمال، بدنیتی، گندے پانی میں سبزیاں اگانا، دودھ میں ملاوٹ وغیرہ شامل ہیں۔

اچھی خوراک، صحت اور زندگی کو فروغ دینے کے لیے درج ذیل کام کریں۔

ہاتھوں کو صاف رکھنا ۔

ہاتھوں کو پانی اور صاف صابن سے دھونا اور اس کا بہترین طریقہ پانچ وقت باوضو ہو کر نماز ادا کرنا ہے۔

صاف پانی کا استعمال یقینی بنانا۔

دراصل بہت ساری بیماریاں آلودہ پانی کے ذریعے پھیل رہی ہیں۔ مثلا ہیپاٹائٹس، ڈائریا، ہیضہ، پیچش اور معدے کے امراض۔
روزمرہ زندگی میں چند باتوں پر عمل پیرا ہو کر بہت ساری بیماریوں اور پیچیدگیوں سے بچا جا سکتا ہے مثلا پانی پینے سے پہلے ابال لیں۔ گھر کے برتن سبزیاں صاف پانی سے دھوئیں اگر گھر میں معیاری فلٹر لگا لیے جائیں تو صاف پانی سہولت میسر رہے گی۔

کھانے پینے میں احتیاط

اچھی صحت کے لئے ضروری ہے کہ متوازن غذا کھائیں اور اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ نمک، چینی اور چکنائی کا استعمال کم ہو ایک ہی وقت میں حد سے زیادہ نہ کھائیں اور پھلوں اور سبزیوں کا استعمال کثرت سے کریں چکی کے آٹے کی روٹی استعمال کریں اگر ممکن ہو تو ہفتے میں ایک بار مچھلی ضرور کھائیں۔ زیادہ چکنائی اور میٹھی چیزیں استعمال نہ کریں کیونکہ یہ موٹاپے کا باعث بنتی ہیں۔ جوس اور ڈبہ پیک اشیاء نہ لیں بلکہ سادہ پانی لسی دودھ اور گنے کا رس پئیں۔ گوشت پنیر کیک ڈبل روٹی اور بسکٹ کا استعمال کم کریں۔ 40 سال کے بعد نمک کا استعمال بالکل کم کر دیں۔

ورزش کی عادت

انسان عمر کے کسی بھی حصے میں کیوں نہ ہو صحت مند رہنے کے لیے ضروری ہے کہ باقاعدگی سے ورزش کرے۔ طبی لحاظ سے ورزش کے بے شمار فوائد ہیں۔ اور اس کے برعکس اگر ورزش نہ کی جائے تو دل کے امراض، ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، کولیسٹرول کی شرح ، فالج اور گردوں کے امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
نیند صحیح وقت پر اور پوری کریں۔
عمر کے ساتھ ساتھ ہماری نیند کے اوقات میں تبدیلی آتی ہے نوزائیدہ بچے دن میں 16 سے 18 گھنٹے سوتے ہیں، ایک سے 3 سال کا بچہ 14 گھنٹے نیند لیتا ہے۔ تین سے 4 سال کا بچہ 12 گھنٹے سوتا ہے۔ سکول جانے والے بچے کم ازکم دس گھنٹے اور بالغ تقریبا 8 گھنٹے سو کر اپنی نیند پوری کرتے ہیں۔ نیند ہارمونز کے توازن میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ سونے سے پہلے زیادہ کھانا نہ کھائیں اور ذہن کو تفکرات سے پاک رکھیں۔ بہتر ہے کہ سونے سے پہلے قرآن کی تلاوت کریں یا سنیں۔

ان بنیادی احتیاطوں کے علاوہ اپنی ذاتی چیزیں دوسروں کو نہ دیں مثلا تولیا، برش، صابن، ڈیٹول ، کنگھی، ریزر ، استرا ، بلیڈ وغیرہ ۔ حتیٰ کہ بعض صورتوں میں دوسروں سے اپنے کھانے کے برتن بھی علیحدہ رکھنے چاہئیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *